ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / جی ڈی پی کے اعداد و شمار میں ترمیم میں نیتی آیوگ کے کردار پر تنازع

جی ڈی پی کے اعداد و شمار میں ترمیم میں نیتی آیوگ کے کردار پر تنازع

Fri, 30 Nov 2018 01:29:42    S.O. News Service

نئی دہلی:29/نومبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) پیشرو یو پی اے حکومت کی مدت کے دوران کی مجموعی گھریلو مصنوعات (جی ڈی پی)کی ترقی کی شرح کے نظر ثانی اعداد و شمار کو جاری کرنے میں نیتی آیوگ کے کردار کو لے کر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔حکومت کے ہی کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس اعلان سے نیتی آیوگ کو الگ رکھ کر تنازعہ سے بچا جا سکتا تھا۔نیتی آیوگ کے نائب صدر راجیو کمار اورچیف پروین شریواستو نے بدھ کو پریس کانفرنس میں پرانی سیریز کے نظر ثانی اعداد و شمار جاری کئے۔نظر ثانی اعدادوشمار کے مطابق کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کے دور میں معیشت کی اوسط اضافہ کی شرح 6.7فیصد رہی، جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں یہ 7.3فیصد رہی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق یو پی اے کے 10سالہ دور میں اوسط ترقی کی شرح 7.75فیصد تھی،تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ مرکزی شماریات دفتر (سی ایس او)ایک آزاد ایجنسی ہے اور اعداد و شمار نکالنا اس کی ذمہ داری ہے، لیکن کمار اور شریواستو کی مشترکہ پریس کانفرنس پر سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم اور بہت سے دوسرے لوگوں نے سوال اٹھائے ہیں۔ اعلی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلان سے باہر رکھ کرنیتی آیوگ کو تنازعات سے الگ رکھا جا سکتا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ جی ڈی پی کے حساب میں نیتی آیوگ کا کوئی کردار نہیں ہے۔یہ کام سی ایس اوکا ہے۔چدمبرم نے بھی اس ترمیم میں نیتی آیوگ کے کردار کو لے کرسوال کھڑا کیا اور سب کچھ آیوگ کی طرف سے کیا دھرا بتایا۔وہیں سابق چیف سی ایس او پرنب سین نے اس میں آیوگ کے کردارپرسوال اٹھایا۔وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اس ترمیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سی ایس او انتہائی قابل اعتماد تنظیم ہے اور یہ وزارت خزانہ سے دوری بنا کر رکھتی ہے۔حزب اختلاف کی پارٹی نے یہ بھی کہا کہ یہ نیتی آیوگ کی وجہ سے ہے،اب وقت آ گیا ہے اس بیکارتنظیم کو بند کردیاجائے۔


Share: